بنگلور 4/جنوری (ایس او نیوز)شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کو لے کر ایک طرف ملک بھر میں احتجاج اور تحریکیں چلائی جارہی ہیں، وہیں کئی اداروں کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کرکے اس قانون کو چیلنج بھی کیا جارہا ہے، اسی طرح کی ایک پیٹیشن ایسوسی فار پروٹیکشن آف سول رائیٹس (اے پی سی آر) کی طرف سے بھی سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے اورعدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو غیر دستوری قراردےکر ملک میں اسے نافذ ہونے پر روک لگائے ۔
بنگلور میں اے پی سی آر کرناٹکا کے سکریٹری ایڈوکیٹ محمد نیاز نے بتایا کہ یہ پٹیشن سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ اعجاز مقبول صاحب کے ذریعے داخل کی گئی ہے جسمیں درخواست کنندگان خود اے پی سی آر بھی ہے ، ساتھ ہی رفیق احمد اور ایڈوکیٹ شعیب انعامدار بھی درخواست کنندگان میں شامل ہیں۔
پٹیشن میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ عدالت اس قانون کو کالعدم اس لئے قرار دے کیونکہ یہ قانون ملک کی آئین، اس کی روح اور بنیادی حقوق سے راست متصادم اور امتیاز و تفریق پر مبنی ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ شہریت مذہب کی بنیاد پر نہیں دی جا سکتی۔درخواست گزاروں نے عدالت عظمی سےدستور کی کئی شقوں اور دلیلوں کو پیش کرتے ہوئے اسے غیر دستوری ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ قانون سیکولرازم کے اصول کے منافی ہے اور یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے بھی خلاف ہے۔